
لیہ : شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی ایڈیشنل سیکریٹری جنرل علامہ سید ناظر عباس تقوی کا کہنا ہے کہ ماضی میں اپنی مظلومیت کو طاقت میں بدل کر رئیسانی حکومت گرائی تھی ہمیں اب دوبارہ ایسے کسی اقدام پر مجبور نہ کیا جائے۔ ہزاروں شہداء کے قاتلوں کی معافی کسی صورت قبول نہیں، ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ردعمل بھرپور آئے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ لیہ کے موقع پر علمائے کرام اور عمائدین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ ناظر تقوی کا کہنا تھا کہ ہمیں کبھی دہشت گردوں سے ڈرانے کی کوشش کی گئی تو کبھی ہمارے لوگوں کو غائب کرکے، لیکن ہم کسی صورت ڈرنے والے نہیں۔ حکومت تشیع کے حوالے سے اپنا رویہ تبدیل کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ملک میں ہر مذہب و مسلک کے پیروکاروں کو اپنی عبادت کرنے کی اجازت ہے اور ہونی بھی چاہیئے، صرف تشیع کو ذکر امام حسینؑ سے کیوں روکا جاتا ہے؟ ہماری خاموشی کو کوئی مجبوری نہ سمجھے، ہم اپنی مظلومیت کو طاقت میں بدلنا جانتے ہیں، کسی صورت اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ہم اپنی مظلومیت کو طاقت میں بدل کرکے پرامن احتجاج کے ذریعے رئیسانی کی ظالم حکومت کو گرا چکے ہیں، ہمیں دوبارہ ایسے کسی اقدام پر مجبور نہ کیا جائے، ہمارا حق نہیں دو گے تو ہم چھیننا جانتے ہیں، پنجاب میں عزاداری پر لاتعداد ایف آئی آرز کاٹی گئیں، جنہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔


































