
Abu Ubaida, the spokesman of the Izz el-Deen al-Qassam Brigades, gestures as he speaks during an anti-Israel military show in the southern Gaza Strip November 11, 2019. REUTERS/Ibraheem Abu Mustafa/File Photo
حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الٹی میٹم کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ اسرائیلی اسیران کی واپسی کا واحد راستہ معاہدے کا احترام کرنا ہے۔ حماس کے سیاسی بیورو کے اعلیٰ عہدے دار سمیع ابو زہری نے کہا ہے کہ دھمکیوں کی زبان کی کوئی اہمیت نہیں ہے یہ صرف معاملات کو پیچیدہ بناتی ہیں۔ اسرائیلی اسیران کی واپسی کا واحد راستہ جنگ بندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے، دونوں فریقوں کو اپنی ذمہ داریوں کی تعمیل کرنی چاہیے۔ انہوں نے امریکی صدر کے غزہ جنگ بندی کی منسوخی کے مطالبے کی مذمت کی۔
اس سے پہلے حماس نے معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہ کرنے پر ہفتے کو کی جانیوالی اسرائیلی قیدیوں کی رہائی مؤخر کردی تھی۔حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ گزشتہ 3 ہفتوں کے دوران مزاحمتی گروہوں نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی متعدد خلاف ورزیوں کو نوٹ کیا جن میں بے گھر فلسطینیوں کی شمالی غزہ واپسی میں تاخیر کرنا اور ان پر بمباری کرنا بھی شامل تھا۔


































