
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔ وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر کی ملاقات ہوئی، ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ غصے میں آگئے، ملاقات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی موجود تھے۔
یوکرینی صدر نے امریکی نائب صدر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ چیخیں مت، امریکی صدر نے کہا کہ جے ڈی وینس چیخ نہیں رہے بات کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر کو جھاڑ دیتے ہوئے کہا کہ آپ تیسری جنگ عظیم پر جوا کھیل رہے ہیں، آپ کی وجہ سے روس کے ساتھ جنگ نہیں رک رہی، آپ کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔
زیلنسکی نے مطالبہ کیا کہ معدنیات معاہدے کے ساتھ امریکا کی سکیورٹی گارنٹی چاہتے ہیں، ٹرمپ نے جواب دیا کہ یوکرین کی سکیورٹی کی گارنٹی امریکا کی نہیں یورپ کی ذمہ داری ہے، تلخ کلامی کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس منسوخ کردی گئی۔ دونوں ملکوں کے درمیان معدنیات کے معاہدے پر دستخط کی تقریب بھی منسوخ ہوگئی، گرما گرمی کے بعد یوکرینی صدر وائٹ ہاؤس سے چلے گئے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے ڈونلڈ ٹرمپ سے تلخ کلامی پرمعافی مانگنے سے انکار کردیا۔
یوکرینی صدر زیلنسکی کہتے ہیں اگر ممکن ہو بھی جائے تو بھی وائٹ ہاؤس واپس نہیں جاؤں گا، آج وائٹ ہاؤس میں جو کچھ ہوا وہ اچھا نہیں ہوا، یوکرین کیلئے امریکا کے بغیر روس کو روکنا مشکل ہے۔ زیلنسکی نے مزیدکہا کہ امریکا کے ساتھ یقیناً تعلقات کو بچایا جا سکتا ہے، ایک شراکت دار کے طور پر امریکا کو کھونا نہیں چاہتے۔


































