
وفاقی وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر فائر وال کی تنصیب کا ٹرائل مکمل کر لیا گیا ہے، جس میں مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کے بعد اب حکومت فائر وال کی خریداری کرے گی۔ ذرائع کے مطابق دوران ٹرائل فائر وال کے ذریعے سوشل میڈیا پر تصویریں، وائس ریکارڈنگ، ویڈیوز ڈاؤنلوڈنگ بند کیا گیا، جبکہ موبائل سگنلز اور انٹرنیٹ سروس کی رفتار کو بھی کم کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے فائروال موبائل ڈیٹا پر لگا کر چیک کی گئی۔ علاوہ ازیں پی ٹی اے نے تمام موبائل کمپنیوں کو ایشوکلیرنس کی ای میل کر دی۔ ذرائع کے مطابق واٹس ایپ اور فیس بک اپنی اصل حالت میں بحال ہوگئی، ٹرائل کے بعد حکومت فائروال کی خریداری کرے گی، فائروال خریداری کا اشتہار پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے۔ واضح رہے کہ 11 جون کو حکومت نے سوشل میڈیا صارف کو لگام ڈالنے کے لیے فائر وال کی تنصیب کا فیصلہ کیا تھا۔ جس کے تحت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنیوالی کمپنیوں پر فائر وال نصب ہو گی اور ڈیپ پیکٹ انسپکشن سے سوشل میڈیا ڈیٹا کو فلٹر کیا جاسکے گا جبکہ فائر وال اپلیکیشن کے بجائے اب آئی پی لیول پر ڈیٹا بلاک ہوسکے گا۔
ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ سروس فراہم کرنیوالی کمپنیوں پر فائر وال نصب ہوگی، فائر وال کی تنصیب کی کچھ قیمت حکومت ادا کرے گی فائروال کی باقی قیمت انٹرنیت سروس فراہم کرنیوالی والی کمپنیاں ادا کریں گی۔ وزارت آئی ٹی کے مطابق انٹرنیٹ سروس فراہم کرنیوالی کمپنیاں غیرقانونی مواد روکنے کی پابند ہیں، کمپنیاں لائسنس کی شق کے مطابق ایسے مواد کی روک تھام کیلئے اقدامات کی پابند ہیں، فائر وال کی تنصیب پی ٹی اے کا دائرہ اختیار ہے۔


































