
برلسن: جرمنی میں ایئرپورٹس، بسوں، بندرگاہوں اور ریلوے اسٹیشنز کے عملے کی ہڑتال سے زندگی کا پہیہ رک گیا۔ ٹرانسپورٹ یونین کی مشترکہ ہڑتال سے نظام درہم برہم ہوگیا اور لاکھوں افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے معاشی دہائیوں کی سب سے بڑی ہڑتال قرار دیا جا رہا ہے ۔میڈیا نے اسے عظیم ہڑتال کا نام دیا ہے۔سات ریاستوں میں ٹرام اور بس سروس مکمل معطل ہے۔ یونینز نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ سمجھوتہ کرنے میں ناکام رہے تو اسے مزید ہڑتالوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکومت نے ملازمین کو تنخواہ میں 5 فیصد اضافے اور 2500 یورو کی یکمشت ادائیگی کی پیشکش کی ہے لیکن یونینز اسے دگنا کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں اور کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی جو کہ فروری میں 9.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے، میں اتنا کم اضافہ ناقابل قبول ہے۔ وزیر داخلہ نینسی فیزر نے کہا کہ وہ پر امید ہیں کہ اس ہفتے ایک معاہدہ طے پا جائے گا۔ بہت سے پبلک سروس ورکرز توانائی کی بلند قیمتوں اور بڑھتی مہنگائی کا شکار ہیں۔ اسی لیے یہ ہمارا کام ہے کہ ایک اچھا معاہدہ تلاش کریں۔


































