Thu Oct 15, 2026

ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

تجارتی جنگ میں شدت: امریکا کا چین پر 104 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

واشنگٹن: امریکا اور چین میں تجارتی جنگ میں شدت آگئی، امریکا نے چین پر 104 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکا نے آج صبح ایک بج کر 12 منٹ سے چند چینی مصنوعات پر 104 فیصد ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا چند چینی مصنوعات پر 104 فیصد ٹیکس لاگو ہو جائے گا۔ یہ اقدام چین کی جانب سے جوابی ٹیکس واپس نہ لینے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ چین معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ لیویٹ نے بتایا کہ تقریباً 70 ممالک نے امریکہ سے ٹیرف کے حوالے سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔
ٹیرف پر نہ تو کوئی تاخیر ہوگی اور نہ ہی توسیع دی جائے گی۔ دوسری طرف اس سے قبل چین نے کہا ہے کہ امریکا اپنے محصولات میں اضافہ کرتا ہے تو ہم اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے پرعزم طریقے سے جوابی اقدامات کریں گے۔
چین کی وزارت تجارت کے ترجمان لین جیان نے کہا ٹیرف جنگ آخری وقت تک لڑنے کیلئے تیار ہیں۔ چین کے خلاف امریکا کے نام نہاد جوابی ٹیرف بے بنیاد ہیں۔
چین نے جو جوابی اقدامات کئے ہیں وہ مکمل طور پر جائز ہیں جن کا مقصد چین کی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ایک عام بین الاقوامی تجارتی ترتیب کو برقرار رکھنا ہے۔
امریکی خریداروں نے صدر ٹرمپ کی جانب سے محصولات عائد کرنے کے بعد دنیا کے دوسرے سب سے بڑے گارمنٹس مینوفیکچرر بنگلہ دیش سے آرڈرز روکنا شروع کردیے ہیں۔
ٹرمپ نے بنگلہ دیش کی کپاس کی مصنوعات پر 37 فیصد نئے محصولات عائد کیے ہیں۔ ٹرمپ نے ٹیرف کے بعد معاشی بے یقینی سے دوچار امریکیوں کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے بالکل گھبرانا نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا میں کساد بازاری کا خدشہ 60 فی صد تک بڑھ گیا ہے۔ گیلپ سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت 4 فیصد کمی کے بعد 43 فیصد پر آگئی ۔ یورپی یونین کے وزرائے تجارت کا لکسمبرگ میں اجلاس ہوا۔
اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں یورپی یونین ٹریڈکمشنر نے کہا امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنیکی تیاری کرلی ہے۔ ٹیرف کے لیے مصنوعات کی حتمی فہرست 15 اپریل کو منظور ہوگی۔

مزید پڑھیے

Most Popular