
نیویارک: اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے دو ہزار پچیس کو مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی آبادکاری میں غیرمعمولی اضافے کا سال قرار دے دیا۔
انتونیو گوتریس نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا کہ رواں سال آبادکاری منصوبوں میں اضافہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ کے آغاز سے اب تک سب سے زیادہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ غیرقانونی صیہونی آبادکاروں کا تشدد تیزی سے بڑھ رہا ہے اور زیتون کی فصل کے موسم میں یہ حملے مزید سنگین ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی صیہونی آبادکاری اور تشدد خطے کی صورتحال کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام آبادکاریاں بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ سیکریٹری جنرل کے مطابق غزہ کی انسانی صورتحال تباہ کن ہے، جہاں 80 فیصد سے زائد رہائشی و عوامی عمارتیں مکمل یا شدید طور پر تباہ ہوچکی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سنگین جرائم اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر مکمل احتساب یقینی بنایا جانا چاہیے۔


































