
نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سربراہ اور مالٹا کی نمائندہ وینیسیا فریزر نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں فلسطین کی مستقل رکنیت پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ میں نئے ارکان کی شمولیت کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے دو تہائی ارکان نے فلسطین کی مستقل رکنیت کے حوالے سے اجلاس میں اس کے حق میں ووٹ دیا۔ تاہم اس معاملے پر کوئی اتفاق رائے قائم نہیں ہوسکا۔تاہم اس سے فلسطین کی کوششوں کا خاتمہ نہیں ہو گا اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک میں سے ہر ایک اقوام متحدہ کا مکمل رکن بننے کیلئے فلسطین کی کوششوں پر رائے شماری کی تجویز دے سکتا ہے۔سفارتی ذرائع نے کہا ہے کہ اٹھارہ اپریل کو الجزائر کی درخواست پر سلامتی کونسل میں فلسطین کی اقوام متحدہ میں مستقل رکنیت پر ووٹنگ ممکن ہے۔ لیکن امریکی مخالفت کی وجہ سے کامیابی ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے رابرٹ ووڈ نے کہا ہے کہ فلسطینی رکنیت کےحوالے سے امریکی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے دائرہ کار میں ہونا چاہیے، اقوام متحدہ میں نہیں۔ اگر فلسطین کی رکنیت اسرائیل کے ساتھ معاہدے سے باہر منظور کی جاتی ہے تو اقوام متحدہ کی فنڈنگ بند کر دی جائے گی۔


































