
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کا مرحلہ ناکام نہیں ہوا مگر یہ ایک بہت مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق اس کی وجہ بھی امریکی رویہ ہے۔ نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے نے کہاکہ ہم مدد کی خواہش رکھنے والے ممالک خصوصاً چین کو سراہتے ہیں۔ انھوں نے چین کی خصوصی مدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ہم اسٹریٹجک پارٹنر ہیں۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ اور کارروائی کے خلاف مزاحمت کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس امریکیوں پر اعتبار کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور امریکہ کے پاس ایران پر عدم اعتماد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ان کی رائے میں کسی بھی ڈیل سے پہلے تمام چیزیں واضح ہونی چاہیں۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی صرف عزت کی زبان سمجھتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی رکاوٹ کا ذمہ دار ایران نہیں ہے۔ ایران نے کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا اور صرف اپنے دفاع میں اقدامات کیے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ 40 روزہ جنگ کے بعد اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد اس نے ایک بار پھر مایوسی میں مذاکرات کی بات چیت شروع کی۔ تاہم ان کے بقول ایران کو امریکہ پر کوئی اعتماد نہیں ہے اور اس کی واضح وجوہات موجود ہیں۔ عباس عراقچی نے 2015 کے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی جسے دنیا بھر میں سراہا گیا، مگر ایک سال بعد نئی امریکی انتظامیہ نے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی جبکہ ایران اپنے وعدوں پر قائم رہا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ جون 2025 میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا مگر پانچ مراحل مکمل ہونے کے بعد ایران پر حملہ کر دیا گیا۔ ان کے مطابق اس جنگ کے بعد بھی مذاکرات کے تین مزید دور ہوئے۔ جب دونوں فریق ایک ممکنہ معاہدے کے قریب تھے تو 28 فروری کو امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا جس کا ایران نے بھرپور جواب دیا۔ عباس عراقچی نے کہا کہ جو عسکری کارروائی سے حاصل نہیں ہوسکا وہ مذاکرات کی میز پر حاصل نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے کسی بھی مسئلے کا حل عسکری طریقے سے ممکن نہیں۔ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات میں تسلسل کا فقدان رہا۔ ایک دن کی ٹویٹ دوسرے دن سے مختلف ہوتی تھی، اور بعض اوقات ایک ہی دن میں متضاد پیغامات دیے جاتے تھے جو اعتماد کی کمی کی بنیادی وجہ ہے۔


































