
بیروت : حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے کہاہے کہ صیہونی فوج آج تمام محاذوں پر تھک چکی ہے۔ دشمن کے سینئر ماہرین اسٹریٹجک نقصانات کو تسلیم کرتے ہیں۔ تمام قتل عام کے باوجود غزہ کے لوگ آپ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔
ویڈیو لنک پر خطاب میں سید حس نصراللہ نے کہا کہ غزہ جو ایک منظر نامے میں مزاحمت کرتا ہے، لڑتا ہے اور برداشت کرتا ہے۔ وہ ایک معجزے کے قریب اور دنیا کو حیران کررہا ہے۔۔ یہ قرآن کی ثقافت ہے اور یہ پوری دنیا کے لیے ایک الہی ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ میں مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جس کا اعتراف صیہونی حکام کرتے ہیں۔ ہم اپنے شہداء کا اعلان براہ راست نشریات میں کرتے ہیں لیکن دشمن اپنی اموات کو چھپاتا ہے کیونکہ اس کا اثر اسرائیلی فوج پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل شمالی محاذ پر فوجیوں، فوجی گاڑیوں اور دیگر نقصانات کے بارے میں انتہائی رازداری سے کام لیتا ہے.
انہوں نے کہا کہ 5ماہ کی جنگ کےبعد اسرائیلی فوج کے پاس اہلکاروں کی کمی ہے اور وہ 14,500 افسران اور سپاہیوں کو بھرتی کرنا چاہتی ہے اور حتیٰ کہ الٹرا آرتھوڈوکس اسرائیلیوں کو بھی بھرتی کرنا چاہتی ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ آج نیتن یاہو کہتے ہیں ہم رفح نہیں گئے تو جنگ ہار جائیں گے۔ لیکن ہم نیتن یاہو سے کہتے ہیں کہ اگر آپ رفح گئے تو بھی جنگ ہار چکے ہیں اور آپ قتل عام کے باوجود حماس یا مزاحمت کو ختم نہیں کر سکتے۔ حسن نصراللہ نے کہاکہ دشمن کی شکست کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ حماس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ حماس کمزوری کے ساتھ نہیں اپنی شرائط پر مزاکرات کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پورے خطے میں مزاحمتی محاذ، یعنی لبنان، عراق اور یمن غزہ میں اپنے ساتھی مزاحمت کاروں کو مدد فراہم کرنے کے لیے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ اور ہم حمایت جاری رکھیں گے۔


































