
بیروت: حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ حماس اور مزاحمت کو تباہ کرنے کا صیہونی امریکی منصوبہ ناکام ہو گیا۔ شیخ نعیم قاسم نے غزہ جنگ بندی پر فلسطینی قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی فتح فلسطینی قوم اور خطے کی تمام اقوام اور دنیا کے تمام حریت پسندوں کے لیے اہم ہے. جنہوں نے فلسطین کی حمایت کی۔ شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ طوفان الاقصیٰ آپریشن کا ہدف حاصل کر لیا گیا. صیہونی حکومت دنیا بھر میں ایک جنگی مجرم کے طور پر رسوا ہوئی اور وہ اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لئے معاہدے کی ذلت قبول کرنے پر مجبور ہوئی جو کہ اس کی شکست کی دلیل ہے۔ مزاحمتی فورسز میدان میں موجود ہیں اور ایک لمحے کے لیے بھی میدان نہیں چھوڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کے تمام علاقوں میں مزاحمت غیر معمولی جرات کے ساتھ کھڑی ہے، اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی درخواست امریکہ کے ذریعے کی گئی تھی اور ہم نے اور لبنانی حکومت نے اس پر اتفاق کیا تھا اور یہ ہماری فتح ہے۔ حزب اللہ کے رہنما نے کہا مزاحمت نے غزہ اور لبنان کی جنگ اپنے جذبہ ایمان اور غیر معمولی قربانی سے جیتی ہے۔ اس غیر مساوی جنگ میں صیہونی اور امریکی دشمن کو داخلی فتنہ اور انتشار پیدا کرنے کے منصوبے میں بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ معلومات کا افشاء، ٹیلی کمیونیکیشن، مصنوعی ذہانت اور دشمن کی فضائی جارحیت ہمارے خلاف حملوں کے موثر عوامل میں سے ہیں، جن پر ہمیں مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہے، ہم نے جنگ بندی پر اتفاق کیا کیونکہ اسرائیل کی جارحیت حزب اللہ پر حملوں سے شروع ہوئی اور پھر پورے لبنان تک پھیل گئی۔ اس جنگ میں لبنانی قوم، فوج اور مزاحمت نے مل کر اسرائیل کو بیروت تک پہنچنے سے روک دیا، ہم اسرائیل کے انخلاء کی ڈیڈ لائن میں ایک دن کی توسیع کو بھی قبول نہیں کرتے۔ شیخ نعیم قاسم نے مزید کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ صدر جوزف عون اسرائیل کو رعایت نہیں دیں گے.


































