
واشنگٹن : امریکا نے جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ میں کثیر القومی یا فلسطینی دستے کی تعیناتی پرغور شروع کردیا۔
بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے پولیٹیکو میگزین کو بتایا کہ امریکا جنگ کے بعد غزہ میں عبوری حکومت اور سکیورٹی ڈھانچے کے لیے مختلف منظرناموں پر غور کر رہا ہے۔ پینٹاگون نے کثیر القومی یا فلسطینی دستے تعینات کرنے کی سفارش کی ہے۔ جس میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی شامل نہیں ہوگی۔ پینٹاگون کی فنڈنگ اور دوسرے ممالک کی علیحدہ امداد مل کر امن فوج کی ضروریات کو پورا کرے گی۔ پولیٹیکو کے مطابق واشنگٹن اور اس کے شراکت داروں کے کسی بھی منصوبے پر اتفاق کرنے میں ہفتوں یا مہینوں کا وقت لگ سکتا ہے۔ چونکہ خطے کے ممالک آپشنز میں سنجیدگی سے مشغول ہونے سے پہلے دو ریاستی حل کے عزم کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل غزہ کی تعمیرِ نو کی ادائیگی کے لیے امیر خلیجی ممالک پر اعتماد کر رہا ہے۔ خلیجی ممالک نے کہا ہے کہ وہ آنکھیں بند کرکے مدد نہیں کریں گے اور دو ریاستی حل کے لیے ایک واضح اور ناقابلِ واپسی راستے کا مطالبہ کیا ہے۔


































