
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے افغانستان پرامریکا کی مسلط کردہ جنگ کو ایک جنونی عمل قرار دے دیا ۔ ایک انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ نائن الیون میں کوئی افغان شہری ملوث نہیں تھا لیکن امریکا نے افغانستان میں نام نہادجنگ کے نام پر20 سال تک قبضہ کیے رکھا۔ سمجھ نہیں آیا امریکی افغانستان میں کیا اہداف حاصل کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ایک کروڑ 40 لاکھ عوام امداد کی منتظر ہیں اور امریکا کو اب افغان عوام کا ساتھ چھوڑنا نہیں چاہیے۔ افغانستان کے معاملے میں پاکستان مشکل صورتحال سے دوچار ہے، عالمی برادری نےافغان عوام کی مدد نہ کی تو خطے میں بحران پیدا ہوسکتا ہے اور شدت پسند تنظیمیں فائدہ اٹھاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، ہم نے پوری دنیا میں کشمیریوں کے لیے آواز بلند کی، بھارت میں انتہا پسندوں اور جنونیوں کی حکومت ہے، بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ بی جے پی کی حکومت بھارت اور خطے کیلئے خطرناک ہے مجھے خدشہ ہے کہ بی جی پی کی موجودگی میں پاک بھارت ایٹمی جنگ نہ چھڑجائے۔ عمران خان نے اپوزیشن پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقابلہ دو ایسے خاندانوں سے ہے جو دولت سے مالا مال ہیں، بھٹو اور شریف خاندان نے وسائل کا ناجائز استعمال کیا، میری سیاست کا مقصد پاکستان کو کرپٹ حکمرانوں سے پاک کرنا ہے، ملک کو خوشحال بنانا ہے۔ غریب ممالک کی غربت کی وجہ ان کے کرپٹ حکمران ہیں۔ ملکی بدحالی کےذمہ داربھٹو اور شریف خاندان ہیں۔ بھٹو اورشریف خاندان سیاست نہیں خاندانی نظام قائم کرناچاہتے ہیں۔


































