Thu Oct 15, 2026

ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ

روزانہ کی خبریں

پلاسٹک کی آلودگی پھیلانے میں امریکا دنیا میں سب سے آگے

واشنگٹن : دنیا بھر سے پیدا ہونے والے پلاسٹک فضلے میں سب سے زیادہ کچرے کا ذمہ دار امریکاہے جہاں ہر شہری 130 کلوگرام پلاسٹک فضلہ سالانہ پیدا کرتا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی حکومت کو پیش کی گئی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ پلاسٹک فضلے کے بحران سے نمٹنے کے لیے قومی حکمت عملی تیار کی جائے۔امریکا نے سال 2016 میں مجموعی طور پر تقریباً چار کروڑ 20 لاکھ میٹرک ٹن پلاسٹک فضلہ پیدا کیا تھا، جو یورپی یونین کے تمام رکن ممالک اور چین کی جانب سے پیدا ہونے والے پلاسٹک فضلے سے بھی دل دگنا ہے۔ امریکا کے بعد دوسرے نمبر پر برطانیہ ہے جہاں ہر شہری سالانہ 99 کلوگرام پلاسٹک فضلہ پیدا کرتا ہے جبکہ جنوبی کوریا میں اس کی مقدار 88 کلوگرام سالانہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پلاسٹک کچرے کی پیداوار سال 1996 میں دو کروڑ میٹرک ٹن تھی جو 2015 میں 20 گنا اضافے کے بعد 38 کروڑ 10 لاکھ میٹرک ٹن ہوگئی۔ ابتدائی طور پر سمندر میں موجود فضلے سے نمٹنے کے لیے زیادہ تر توجہ بحری جہازوں یا دیگر بحری ذرائع سے جڑے فُضلے پر دی جاتی تھی لیکن اب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً زیر استعمال ہر پلاسٹک دریاؤں اور ندیوں کے ذریعے سمندروں تک پہنچ سکتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تقریباً ہزاروں کی تعداد میں آبی حیات کی جان کو پلاسٹک میں پھنسنے یا کھانے سے خطرہ ہے جس سے واپس انسانوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ کی بنیاد پر تقریباً 80 لاکھ میٹرک ٹن پلاسٹک فضلہ دنیا میں پیدا ہوتا ہے۔ اگر اسی رفتار سے پلاسٹک کچرا پیدا ہوتا رہا تو 2030 تک ہر سال پانچ کروڑ 30 لاکھ میٹرک ٹن کچرا سمندر میں داخل ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular