
ماسکو: روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخاروف کا کہنا ہے کہ امریکا عجلت میں ماسکو حملے کا ذمہ دار داعش کو ٹھہرا کر بے نقاب ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا داعش پر الزام لگانے کا فیصلہ عجلت میں تھا اور اب وہ خود اپنے کھودے گڑھے میں بری طرح پھنس گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ابھی حملے کے بعد آگ کے شعلے بجھے بھی نہیں تھے کہ امریکیوں نے یوکرین کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کے طور پر میڈیا ہنگامہ آرائی شروع کر دی جو کہ بذات خود اس حملے میں یوکرین کے ملوث ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکی ہنگامہ آرائی کی کسی بھی طرح تشریح نہیں کر سکتیں کیونکہ یہ جلد بازی بنیادی طور پر ایک جرم کا کھلا ثبوت ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ایک اور اہم مسئلہ امریکہ کی بیان بازی اور اس حملے کا یقینی طور پر داعش کو ذمہ دار ٹھہرانا تھا۔ یقیناً اتنی عجلت میں داعش کو ذمہ ٹھہرانے کا عمل حیران کن ہے۔ گویا انہیں مائیکروفون اٹھا کر میڈیا کو آگاہ کرنے کی ہی دیر تھی اور اس دہشت گردانہ حملے کے مجرم کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنے کے لیے صرف چند گھنٹے درکار تھے۔ ماریہ زخاروف نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ایسا کرکے انہوں نے اپنے آپ کو مخمصے میں ڈال دیا ہے کیونکہ جیسے ہی انہوں نے داعش کے بارے میں بات کی، وہ تمام لوگ جو بین الاقوامی تعلقات کے شعبے میں کام کرتے ہیں وہ فوری سمجھ گئے اور داعش کی حقیقت کو برملا کیا۔ کیونکہ امریکہ اور برطانیہ نے ہی داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو بنایا ہے۔


































