
An RAF Typhoon aircraft takes off to join the U.S.-led coalition from RAF Akrotiri to conduct air strikes against military targets in Yemen, aimed at the Iran-backed Houthi militia that has been targeting international shipping in the Red Sea, in Cyprus, in this handout picture released on January 12, 2024. UK MOD/Handout via REUTERS THIS IMAGE HAS BEEN SUPPLIED BY A THIRD PARTY NO RESALES. NO ARCHIVES
صنعا: امریکہ، برطانیہ اور اتحادی ممالک نے یمن پر حملہ کرکے نیا محاذ کھول دیا۔امریکی جنگی جہازوں سے ٹوماہاک کروز میزائل اور لڑاکا طیاروں نے دارالحکومت صنعا اور الحدیدہ سمیت 12 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا۔ امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر یمنی فوج کے بار بار حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق فوجی اہداف میں لاجسٹک مرکز، فضائی دفاعی نظام اور ہتھیاروں کے ذخیرہ کرنے کے مقامات شامل تھے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ کی فوج نے آسٹریلیا، بحرین، کینیڈا اور ہالینڈ کی مدد سے یمن میں فوجی ٹھکانوں پر کامیابی سے حملے کیے ہیں۔ یہ ٹارگٹڈ حملے ایک واضح پیغام ہیں کہ امریکہ اور اس کے حمایتی اپنے شراکت داروں پر حملوں کو برداشت نہیں کریں گے اور نہ ہی دشمن عناصر کو جہاز رانی کی آزادی کو متاثر کرنے کی اجازت دیں گے۔
دوسری جانب ترجمان وائٹ ہائوس جان کربی نے کہا ہے کہ امریکہ یمنی فوج کے کی جانب سے بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر مسلسل حملوں کا مقابلہ کرے گا۔ جان کربی نے کہا کہ اگر یمنی گروپ نے اپنے حملے بند نہ کیے تو اس کے نتائج خطر ناک ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ مزید فوجی کارروائی کا حکم دینے سے بھی نہیں ہچکچائیں گے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سنک نے اپنی کابینہ کو یمن میں فوجی ٹھکانوں


































