
کرمان : کرمان میں دو دہشت گردانہ بم دھماکوں کے شہدا کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ جس میں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی، اعلیٰ فوجی حکام اور ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی۔ شہدا کے جنازے سوگواروں کے جم غفیر میں گلزار شہدا پہنجائے گئے اس موقع پر کرمان شہر کی فضا انتقام انتقام اور امریکا مردہ باد اسرائیل مردہ باد کے نعروں سے گونج رہی تھی۔
سانحہ کرمان کے خلاف پورے ایران میں نماز جمعہ کے بعد مظاہرے کئے گئے۔ ایران کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل سانحہ کرمان کی مذمت کی اور اسلامی انقلاب کی امنگوں اور انہيں آگے بڑھانے کے اپنے عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا، مظاہرین نے امریکا اور اسرائیل اور دہشت گردوں کے سرپرستوں سے شدید نفرت و بیزاری کا اعلان کیا۔
کرمان حملوں کے خلاف ، عالمی سطح پر مذمت اور ردعمل کا سلسلہ جاری ہے- دنیا کے مختلف ملکوں کے سربراہوں، رہنماؤں اور اعلیٰ حکام نے ایران کے صدر اور دیگر اعلیٰ حکام سے رابطہ یا پیغام ارسال کرکے سانحہ کرمان کی مذمت کی ہے۔
واضح رہے کہ بدھ تین جنوری کو، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے سابق کمانڈر، شہید جنرل قاسم سلیمانی کی چوتھی برسی کے موقع پر کرمان کے گلزار شہداء کی طرف جانے والی سڑک پر زائرین کے درمیان دو دہشت گردانہ دھماکے ہوئے جس میں پچاسی افراد شہید اور دو سو چوراسی زخمی ہوئے۔ حملے کی ذمہ داری امریکا اور غاصب اسرائیل کے پروردہ دہشت گرد گروہ داعش نے قبول کی ہے۔


































