
نیویارک: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان سے بدستور مضبوط اور قریبی تعلقات و روابط ہیں. سلامتی کونسل کی طالبان پر پابندیوں سے متعلق کمیٹی کی معاون اور نگراں ٹیم نے چودھویں رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کو طالبان حکومت میں سرگرمیوں اور کارروائیوں کی کافی آزادی حاصل ہے۔ جس کا وہ خوب استعمال کر رہے ہیں۔ افغانستان اور خطے میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان حکام نے ان گروپوں کے پرو فائل کو کم رکھنے کے ساتھ ساتھ متعدد دہشت گرد اداروں سے روابط برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ کارروائیاں کرنے کی اپنی صلاحیت کو از سر نو مضبوط کر رہی ہے جبکہ ٹی ٹی پی طالبان کی حمایت کے ساتھ پاکستان میں حملے کررہی ہے۔ دوسری جانب افغان طالبان نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے تعصب سے بھرپور قرار دیا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغان حکومت اپنی کمنٹمنٹ پر قائم ہے اور یقین دلاتی ہے کہ افغان سرزمین سے خطے، پڑوسی ممالک اور دنیا کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔


































