
نئی دہلی : بھارتی سپریم کورٹ نے مدارس پر پابندی کے فیصلے پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ فیصلے سے ہزاروں طلبا اور اساتذہ نے سکون کا سانس لیا ہے۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ آرڈیننس کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ یہ قانون آئینی سیکولرازم کی خلاف ورزی ہے ۔مدارس کے طلباء کو روایتی اسکولوں میں منتقل کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ درخواستوں میں اُٹھائے گئے مسائل تفصیلی طور پر غور طلب ہیں۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی سماعت جولائی میں ہو گی اور اس وقت تک سب کچھ معطل رہے گا۔ اتر پردیش میں بورڈ آف مدرسہ ایجوکیشن کے سربراہ افتخار احمد جاوید نے عدالت کے حکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک بڑی جیت قرار دیا ہے۔


































