
خرطوم : سوڈان میں اکتوبر میں ہونے والی فوجی بغاوت کے خلاف دارالحکومت خرطوم اور دیگر شہروں میں ایک بار پھر ہزاروں شہریوں نے بھرپور مظاہرے کئے۔ مظاہروں کو محدود رکھنے کے لیے خرطوم اور اس کے جڑواں شہر ام درمان میں صدارتی محل کے ارد گرد سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ مشرقی شہروں قادریف اور پورٹ سوڈان جب کہ مغرب میں جنگ زدہ علاقے دارفور سمیت دیگر جگہوں پر بھی مظاہرین نے احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ مظاہرین نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹائروں کو آگ لگادی۔ مقامی طبی گروپ کے مطابق اکتوبر میں بغاوت کے بعد سے اب تک مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں 90 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر نوجوان تھے اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔


































