
فلسطین میں اسلامی مزاحمتی تنظیم حماس کے ملٹری ونگ قدس بٹالینز کے ترجمان ابوحمزہ نے عالمی یوم القدس کی مناسبت سے بیان دیتے ہوئے کہاکہ: "اس سال یوم القدس کا گذشتہ سالوں کے یوم القدس سے فرق یہ ہے کہ قدس شریف تمام (صیہونی مخالف) محاذوں کو فعال اور تمام محاذوں کو آپس میں متحد کر چکا ہے۔ ہم (غاصب صیہونی رژیم کو) خبردار کرتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ کی کسی قسم کی بے حرمتی پورے خطے کو آگ لگا دے گی۔” ابوحمزہ نے مزید کہا: "غزہ میں رونما ہونے والے حالات کے پیش نظر ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ صیہونی امریکی جنگی مشینری کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ ہم سب پر لازم ہے کہ غزہ اور فلسطین سے ہمدردی کا اظہار کریں اور ان کی حمایت کا اعلان کریں۔ ہمیں شیطانی محاذ کے مقابلے میں ایمانی محاذ کے اندر رہ کر اتحاد اور وحدت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔” قدس بٹالینز کے ترجمان نے کہا: "ہم دیگر اسلامی مزاحمتی گروہوں کے ہمراہ طوفان الاقصیٰ معرکے کو فوجی، سیکورٹی اور عوامی سطح پر پوری طاقت اور استقامت سے جاری رکھیں گے۔ میدان جنگ میں ہماری موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ ہم غاصب صیہونی رژیم کے خلاف مزاحمت پر زور دیتے ہیں۔”
حماس کے ملٹری ونگ کے ترجمان ابوحمزہ نے غاصب صیہونی رژیم کے خلاف مسلح جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا: "غاصب صیہونی رژیم ہمارا یہ پیغام کان کھول کر سن لے کہ ہم محاذوں کے اتحاد کی بنیاد پر اپنی جنگ جاری رکھیں گے اور ہر گز اسے اپنی سرزمین میں سکون کا سانس لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔” ابوحمزہ نے کہا: "ہم اسلامی مزاحمت میں پشت پناہی کرنے والے محاذوں کی مدد سے تمام محاذوں پر عام شہریوں کے خلاف غاصب صیہونی رژیم کے جارحانہ اقدامات کا بھرپور جواب دیتے رہیں گے۔ اسلامی مزاحمت غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں غاصب طاقتوں کا مقابلہ جاری رکھے گی۔ ہم محاذوں کے اتحاد کی بنیاد پر جنگ جاری رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ یمن میں محاذوں کا اتحاد جو صیہونی بحری جہازوں کیلئے ڈراونا خواب بن چکا ہے، لبنان جس نے شمالی محاذ پر صیہونی دشمن کے دل میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے اور الجلیل میں جنگ جیتنے کے قریب پہنچ گئے ہیں اور عراقی بھائی جو ڈرون حملوں کے چیمپئن ہیں۔”
قدس بٹالینز کے ترجمان ابوحمزہ نے کہا: "ہم جنگ کے مرکز غزہ سے حزب اللہ لبنان میں اپنے بھائیوں اور سید حسن نصر اللہ، یمن انقلاب کے قائد سید عبدالملک الحوثی، عراق میں اسلامی مزاحمت کے کمانڈرز، اسلامی جمہوریہ ایران اور شام پر درود بھیجتے ہیں جو ہماری عظیم اسلامی مزاحمت کی تزویراتی گہرائی ہیں۔” ابوحمزہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا: "فلسطین میں بہنے والے پاکیزہ خون، اردن سے لے کر تیونس اور بحرین اور دیگر ممالک میں نشوونما پانا شروع ہو گئے ہیں۔ ہم اردن کے عوام پر درود بھیجتے ہیں جو غزہ کی حمایت میں مظاہرے کر رہے ہیں اور انہیں کہتے ہیں کہ آپ کی آواز غزہ میں سنائی دے رہی ہے۔ ہم آپ کو فتح کا وعدہ دیتے ہیں اور ملت فلسطین کی استقامت دنیا کے تمام لوگوں کیلئے اسوہ عمل ثابت ہو گی۔”


































