
اسلام آباد : پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر و رہنما میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ ریاست نے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مذہب کا استعمال کیا۔ شدت پسند گروپ بنائے گئے۔ ریاست خاموش تماشائی بن کر دیکھتی رہی۔ سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے رضاربانی نے کہا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین انہیں ڈھونڈتے رہتے ہیں، ریاست انہیں چھپاتی رہی، شدت پسند گروپوں نے ریاست کی رٹ کو پارہ پارہ کر دیا۔ ریاست کا مطلب پاکستان کی سول اور ملٹری بیورو کریسی ہے۔ ریاست کا مطلب پارلیمان میں بیٹھے لوگ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سول اور ملٹری بیورو کریسی کو پارلیمنٹ کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔ ضیاء الحق کی آمریت میں متبادل بیانیہ دینے والی سوچ کو ریاستی پالیسی کے تحت ختم کیا گیا۔
کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کیے گئے، کہا گیا کہ سیز فائر ہو گیاہے ریاست کو بتانا ہو گا کہ کن شرائط پر کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ سیز فائر ہوا۔ سیز فائر کے باوجود مختلف گروہ افغانستان میں دوبارہ منظم ہو رہے ہیں، جب تک مسائل کی جڑ نہ پکڑی جائے مسائل پیش آتے رہیں گے۔ ریاست مزید خفیہ معاہدوں کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔ نیشنل ایکشن پلان پر پارلیمنٹ میں دوبارہ بحث ہونی چاہیے اور اس پر عمل درآمد بھی ہونا چاہیے۔


































