
پیرس : ڈاکٹروں کی بین الاقومی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز ایم ایس ایف نے غزہ کی صورتحال کو ہر سطح پر انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔ ایم ایس ایف کی ایمرجنسی شعبہ کی سربراہ کلیری نکلوٹ نے کہا کہ عالمی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے لیکن اس کے فیصلے میں وقت لگے گا جو محصور غزہ کے لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کی جان بوجھ کر امداد، خوراک اور ادویات کی بندش کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی قسم کے قانونی راستے کا انتظار مزید فلسطینیوں کو موت سے ہمکنار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بے بسی سے دیکھ رہی ہے اور اس بہیمانہ ظلم سے بچنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو مارچ کو اسرائیل کی جانب سے انسانی امداد اور رسد پر مکمل پابندی کے بعد غزہ کی صورتحال ہر سطح پر انتہائی سنگین ہوچکی ہے، ناکا بندی نے ایم ایس ایف کی بطور امدادی گروپ کام کرنے کی صلاحیت کو محدود کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کو اسرائیلی حکام پر محاصرہ ختم کرنے اور جنگ زدہ علاقوں میں امداد کو بڑے پیمانے پر داخل ہونے کی اجازت دینے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مزید مصائب اور اموات کو روکا جا سکے۔


































