
جنیوا : عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے غزہ کی صورتحال کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے جنگ بندی، اسیروں کی رہائی اور انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا ہے جسے اسرائیل کی جانب سے روکا جا رہا ہے۔ڈاکٹر ٹیڈروس نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ دو ماہ کی ناکا بندی کی وجہ سے ہمیں لوگوں کی بھوک جاننے کیلئے کمزور بچوں کی تصاویر دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچے کمزور اور غذائیت کی کمی کا شکار ہیں جس کے نتائج زندگی بھر کے لیے ہیں۔
جنیوا میں نیوز کانفرنس سےخطاب میں ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا ہے کہ غزہ کی صورتحال تباہ کن ہے بیس لاکھ افراد کو بھوک کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ عطیہ دینے والے ممالک کے تعاون میں کمی کی وجہ سے ادارے کو غیرمعمولی فنڈنگ کے چیلنجز درپیش ہیں۔ انہوں نے اسے ڈبلیو ایچ او کی فنانسنگ کی تاریخ میں سب سے شدید رکاوٹ قرار دیا ہے۔


































