
تل ابیب : صیہونی فوج میں بغاوت کے آثار نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ صیہونی میڈیا نے عسکری ذرائع کے حوالے سے فوج میں بغاوت کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آرمی چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی اور متعدد اسٹاف کمانڈروں نے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ سے ملاقات کی اور انہیں فوج کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ ان سے حکومت کیخلاف احتجاج کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نےبتایا کہ چار ہزار سے زائد ریزرو فوجی اور افسران نے خطوط لکھ کر واضح کیا ہے کہ وہ فوج میں ریزرو سروس کے لیے رضاکارانہ طور پر نہیں آئیں گے۔ عبرانی اخبار ہارٹز کے مطابق افسران اور سپاہیوں کو یقین ہو گیا ہے کہ وہ ایک ایسے ملک کی خدمت کر رہے ہیں جو ان کا نہیں ہے۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ وہ اس کے لیے اپنی جانیں قربان کرنےچکو تیار نہیں ہیں۔ اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ نےایک بیان میں کہا کہ نیتن یاہو اسرائیل کو ایک قومی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں جس سے نکلنے کے لیے کئی نسلیں درکار ہوں گی۔ ایک اور اپوزیشن رہنما بینی گینٹز نے کہا کہ نظام حکومت کو اکھاڑ پھینکنے اور عدلیہ کو کمزور کرنے کے منصوبے تمام مصیبتوں کی بنیاد ہیں، انہیں روکا جائے۔


































