
دنیا بھر میں فلسطین کی حمایت اور غاصب اسرائیل کی بربریت کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکا کی کرنل یونیورسٹی میں بھی مظاہرے ہوا۔ مظاہرین نے یونیورسٹی کے ان چوبیس طلبہ کی رہائی کا مطالبہ کیا جنہیں فلسطین کی حمایت میں دھرنے پر بیٹھنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
دریں اثنا صنعا سمیت یمن کے مختلف علاقوں میں بھی فلسطینی استقامت اور غزہ سے اظہار یکجہتی کے لئے بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ یمن کے مختلف صوبوں کے عوام نے مظاہروں میں غزہ پٹی میں صیہونیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی اور وحشیانہ جرائم کی مذمت کی اور بحیرہ احمر، بحیرہ عرب اور بحر ہند میں صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کے بحری جہازوں کے خلاف یمنی فوج کی کارروائیوں کی حمایت کا اعلان کیا۔
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سئول میں بھی فلسطینی کاز کی حمایت اور غزہ پٹی پر صیہونی حکومت کے حملوں کے خلاف مظاہرے ہوئے ہيں۔ مظاہرین نے غزہ کے خلاف جنگ کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا- ان مظاہروں میں سئول کے عوام اپنے ہاتھوں میں ایسے پرچم اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر فلسطین کی آزادی کے نعرے درج تھے۔
اردن کے دارالحکومت امان میں بھی نماز جمعہ کے بعد فلسطین باالخصوص غزہ کی حمایت میں بڑے پیمانے پر عوامی مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے صیہونی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کی شدید مذمت کی۔ اومان میں ہونے والے ان مظاہروں میں مسجد الاقصی کا محاصرہ ختم کرنے اور غزہ کے خلاف نسل کش صیہونی حکومت کی جنگ فوراً بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔


































