
نیویارک: بحیرہ احمر میں یمنی افواج کی کارروائیوں کے خلاف سلامتی کونسل میں ایک قرارداد منظور کر لی گئی۔ قرارداد امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی۔ قرارداد میں یمنی فورسز کے ہاتھوں اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی مذمت کی گئی۔
واضح رہے کہ یمن نے یہ حملے غزہ پر تین ماہ سے جاری صیہونی جارحیت کے جواب میں انجام دئیے ہیں۔ جسمیں ہزاروں فلسطینی اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔ اس قرارداد میں بحری جہازوں کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اقوام متحدہ میں روسی نمائندے "واسیلی نیبنزیا” نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی حفاظت کے حوالے سے منظور شدہ قرارداد کو "سیاسی” قرار دیا۔ اس موقع پر انہوں نے شرکاء کو بحیرہ احمر کی صورت حال پر روسی تشویش سے آگاہ کیا۔ واسیلی نیبنزیا نے اس امر کی وضاحت کی کہ امریکہ اور اس کے اتحادی یکطرفہ حل مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ غزہ میں جاری قتل و غارت گری بحیرہ احمر کے عدم استحکام کی اصلی وجہ ہے جسے بند ہونا چاہئے۔
امریکی نمائندے نے کہا کہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے خلاف قرارداد کی منظوری اس بات کو ظاہر کرتی ہے قانون کی خلاف ورزی پر ہم سب متحد ہیں۔ حوثیوں نے اِن سنگین حملوں کے ذریعے بحری تجارتی راستے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ سلامتی کونسل میں امریکی نمائندے نے اپنے ایران مخالف بے بنیاد دعووں کو بھی دُہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے حوثیوں کو جدید میزائل اور ڈرونز دئیے ہیں۔ اس قرارداد کی منظوری ایران کو اپنی ذمے داریاں ادا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
اس قرارداد کی منظوری پر چینی نمائندے نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد میں غزہ میں جنگ بندی تو شامل نہیں۔ جو کچھ بحیرہ احمر میں ہو رہا ہے وہ غزہ کے تنازعے کا ردعمل ہے اور ہم غزہ پر جارحیت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ چینی نمائندے نے کہا کہ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی حفاظت کو یقینی بنانا عالمی تجارت کے استحکام میں معاون ہے۔ ہم حوثیوں سے کہتے ہیں کہ سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل کریں اور بحیرہ احمر میں بین الاقوامی تجارت میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔
قبل ازیں یمن کی مقاومتی تحریک "انصار الله” کے ترجمان نے کہا کہ امریکی حکام کی دھمکیوں کے باوجود یمن، اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ بناتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی بھی ہماری کارروائیوں میں آڑے آیا ہم اُس سے سختی سے نمٹیں گے۔


































