
نیویارک : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں بیشتر ممالک نے ایرانی قونصل خانے کی عمارت پر اسرائیل کے جارحانہ حملے کی مذمت کی ہے۔ روس کے نمائندے ویسیلے نیبنزیا نے کہاکہ ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کی عمارت کو نشانہ بنانے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ہم کسی صورت سفارتی مراکز پر حملوں کی حمایت نہیں کریں گے اور ان کی مذمت کریں گے۔ الجزائر کے نمائندے نے کہا کہ اس طرح کے دانستہ اقدام کا مقصد واضح ہے، تنازعات کی سطح بڑھا کر عالمی دباؤ کا مقابلہ کرنا ہے۔ چین کے نمائندے نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسرائیل کا یہ اقدام 1963ء کے ویانا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیس سال قبل یوگوسلاویہ میں چینی سفارت خانے کو امریکی فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا اور متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ چینی سفارت کار نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ ہم ایرانی عوام کے درد اور غم کو گہرائی سے سمجھتے ہیں اور ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، ہمیں سفارتی مراکز پر اتنی آسانی سے اس قسم کے اقدامات انجام پانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں شریک بیشتر نمائندوں نے اسرائیل کے جارحانہ اقدام کی مذمت کی لیکن امریکہ، برطانیہ، فرانس، جاپان اور جنوبی کوریا نے صیہونی حکومت کے حملے کی مذمت نہیں کی۔


































