
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری تنظیم سازی علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ سندھ میں اغواء برائے تاوان منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ مغوی محنت کش ظہیر ملک کے اغواء کے بعد ایک سال میں مغویوں کی تعداد ایک ہزار تین سو سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ معصوم شہریوں کا اغواء روز کا معمول بن چکا ہے۔ ہر مغوی تاوان کی رقم دے کر بازیاب کرایا جاتا ہے۔ جس کے بعد پولیس مقابلے کا ڈرامہ رچا کر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کرتی ہے۔ جو غریب مغوی تاوان کی رقم ادا نہیں کر سکتے ڈاکو انہیں قتل کرکے ان کی لاش پھینک دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت پولیس رینجرز اور پاک فوج کی جانب سے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کے بار بار اعلان کے باوجود آج بھی سندھ پر ڈاکوؤں کا راج ہے۔ آج بھی درجنوں مغوی ڈاکوؤں کی تحویل میں ہیں۔ ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کے نام پر قومی خزانے کے اربوں روپے کرپشن کی نذر ہو گئے ہیں، سندھ کے عوام آج بھی ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہیں۔


































