
رام اللہ : فلسطینی اتھارٹی نے غزہ پر بھی حکمرانی کیلئے نظریں جمالیں۔ محمود عباس نے سابق وزیر اعظم محمد اشتیہ کی جگہ نئے فلسطینی وزیر اعظم کیلئے محمد مصطفیٰ کو مقرر کیاہے۔
امریکہ نے فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم کے عہدے پر محمد مصطفیٰ کی تقرری کا خیر مقدم کیا ہے۔
اشتیہ نے گزشتہ دنوں فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کے امریکی مطالبات کے دوران استعفیٰ دے دیا تھا۔
تحریک فتح کی انقلابی کونسل کے رکن اور ترجمان جمال نزال نے کہا ہے کہ فتح چاہتی ہے کہ حماس حکومت کو غزہ میں فلسطینیوں کو ریلیف فراہم کرنے کا موقع فراہم کرے۔ فتح کے ترجمان نے بتایا کہ حماس کو فلسطینی عوام کے مفادات کو اپنے مفادات سے بالا تر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ حماس غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کی موجودگی کو مسترد کرتی ہے جب کہ عالمی برادری غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کی موجودگی کو قبول کر رہی ہے۔ نامزد وزیراعظم کو محمد مصطفی ایک بہت بڑے انتظامی اور سفارتی چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غزہ کے بڑے علاقوں کو ملبے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کی 23 لاکھ کی آباد میں سے زیادہ تر بے گھر ہے اور انہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔
اوسلو معاہدے کے نام سے جانے والے عبوری امن معاہدے کے تحت تین دہائیاں قبل قائم کی گئی فلسطینی اتھارٹی مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر محدود حکمرانی کرتی آ رہی ہے۔


































