
اسلام آباد: تحریک انصاف کی جانب سے اپوزیشن کے گرینڈ الائنس بنانے کے معاملے کے بعد پی ٹی آئی، ایم ڈبلیو ایم، بی این پی مینگل، سنی اتحاد کونسل اور پختونخوا میپ حکومت مخالف تحریک پر متفق ہوگئی۔ اپوزیشن جماعتوں نے 8 فروری کے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی سمیت سیاسی ورکرز کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کر دیا۔ مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس کی رہائش گاہ پر 5 اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان، قائم مقام امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، پی کے میپ کے سربراہ محمود اچکزئی، بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل، ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ ناصر عباس، اسد قیصر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب شریک ہوئے۔ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل اتحاد کی تشکیل کے متعلق امور پر مشاورت ہوئی۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں اپوزیشن جماعتوں نے 13 نکات پر اتفاق کر لیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا آئین کی بحالی اود صاف شفاف انتخابات کے بعد جمہوریت کی بحالی پر اتفاق ہوا۔ اپوزیشن جماعتوں کا عدلیہ کی آزادی اور سویلین اداروں کی بالادستی پر بھی اتفاق ہوا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آئین سے انحراف کروڑوں جماعتوں کی نمائندہ پارلیمنٹ کی بے توقیری ہے۔ نظام جمہوریت اور سیاست فوجی مداخلت کیوجہ سے مفلوج ہوچکا ہے۔ غیر آئینی بالادست سیاسی کردار کی وجہ سے عوام اور ریاست میں فاصلے پیدا ہوچکے ہیں۔ سیاسی قیادت نے آئین و جمہوریت کی بحالی کے لیے کردار ادا نہ کیا تو ملک کے مستقبل کو خطرات ہونگے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ملک میں فی الفور نئے صاف شفاف منصفانہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انتخابی اصلاحات کی جائیں جن میں اسٹبلشمنٹ کا کوئی کردار نہ ہو۔
اپوزیشن گرینڈ الائنس کا پہلا جلسہ 13 اپریل کو ضلع پشین میں منعقد ہوگا۔


































