
A Palestinian man looks at the remains of Hamas’s TV station building that was destroyed by Israeli air strikes, in Gaza City November 13, 2018. REUTERS/Suhaib Salem – RC1157CD99A0
غزہ : حماس نے صدر محمود عباس کے متعارف کرائے گئے نئے بلدیاتی انتخابی قانون کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام کی نمائندگی محدود کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔
حماس کے بیان کے مطابق یہ قانون بلدیاتی اُمیدواروں کو پی ایل او کے سیاسی پروگرام کا پابند بناتا ہے، جو بالواسطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ تحریک نے خبردار کیا کہ یہ اقدام شہریوں کی اپنے نمائندے آزادانہ منتخب کرنے کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہے اور مغربی کنارے کے بڑے شہروں میں سرگرم اسلامی و آزاد سیاسی گروہوں کو انتخابی عمل سے باہر کرنے کی منظم کوشش ہے۔ حماس نے کہا کہ یہ قانون فلسطینی اتھارٹی کے مخصوص دھڑوں کو فائدہ پہنچانے اور اسرائیلی و امریکی مفادات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ قانون مغربی کنارے کو مزید تقسیم اور تل ابیب کی شرائط کے تابع کرنے کا راستہ ہموار کرے گا، بجائے اس کے کہ مقامی کونسلوں کو عوامی اختیار دیا جائے۔


































