
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی 26-2022 کی منظوری کو تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی داخلی اور خارجی خطرات سے نبرد آزما ہونے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، قومی سلامتی پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کیلئے تمام ادارے مربوط حکمت عملی اپنائیں۔ وزیر اعظم کے دفتر سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پیر کو وزیراعظم کی زیرصدارت نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا 36 واں اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا برئے اطلاعات و نشریات، داخلہ، خزانہ، انسانی حقوق، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، تمام سروسز چیفس، نیشنل سیکیورٹی ایڈوائرز اور عسکری حکام شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے اجلاس کو پالیسی کے خدوخال پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے قومی سلامتی مشیر کو پالیسی پر عملدرآمد کے لیے ماہانہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اسلام آباد میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی 26-2022 کی منظوری دی گئی۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک کا تحفظ شہریوں کے تحفظ سے منسلک ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ ملک کسی بھی داخلی و خارجی خطرات سے نبرد آزما ہونےکی پوری صلاحیت رکھتا ہے، ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی تیاری اور منظوری تاریخی اقدام ہے، قومی سلامتی ڈویژن اور تمام متعلقہ اداروں کی کاوشیں لائق تحسین ہیں، پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کیلئے تمام ادارے مربوط حکمت عملی اپنائیں۔
معاون خصوصی برائے قومی سلامتی مشیر معید یوسف نے اجلاس کو پالیسی کے خدوخال پر بریفنگ دی اور بتایا کہ قومی سلامتی پالیسی ملک کے کمزور طبقے کا تحفظ، سیکیورٹی اور وقار یقینی بنائے گی، شہریوں کے تحفظ کی خاطر پالیسی کا محور معاشی سیکیورٹی ہوگا،
انہوں نے اپنی بریفنگ میں مزید بتایا کہ معاشی تحفظ ہی شہریوں کے تحفظ کا ضامن بنے گا، پالیسی سازی کے دوران وفاقی اداروں، صوبائی حکومتوں، ماہرین، پرائیویٹ سیکٹر سے مشاورت کی گئی۔ معید یوسف نے کہا کہ پالیسی پر عمل دارمد یقینی بنانے کیلئے فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔


































