
نیویارک : اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے اعلیٰ سطح تفتیش کاروں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فلسطین میں دہائیوں سے جاری تشدد کی بنیادی وجہ اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ ہے۔ 18 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں ماضی کی تحقیقات کاجائزہ لیا گیا ہے اور فلسطین کو مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ فلسطینی ریاست کہا گیا ہے۔ رپورٹ کےمطابق فلسطین میں دہائیوں سے جاری تشدد کی بنیادی وجہ اسرائیل کاغاصبانہ قبضہ ہے۔اسرائیل پورے فلسطین پرقبضہ کرنا چاہتا ہے، اسرائیل کو فلسطین سے اپنا غاصبانہ قبضہ ختم کرنا ہو گا، فلسطینیوں کی زمینوں سے صرف قبضہ ختم کرنا ہی کافی نہیں ہو گا، اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی بند کرنا ہوں گی۔ فلسطینی زمینوں پر اسرائیلی قبضہ ختم کرنا تشدد کے خاتمے کے لیے ضروری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو مستقبل میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے بہت کچھ کرنا ہو گا، 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا، مشرقی یروشلم پر قبضے کو عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا، اسرائیلی حکومت مقبوضہ فلسطین کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔ تفتیشی ٹیم کی سربراہ ناوی پیلے نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کا احتساب ہونا چاہیے تھا۔ ماضی کی سفارشات پر وسیع پیمانے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ یہ واضح ثبوت ہے کہ اسرائیل اپنا غاصبانہ قبضہ ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اسرائیل فلسطین جنگ کے بعد انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔ جبکہ یو این انسانی حقوق کمیشن کی تحقیقات میں اسرائیل نے تعاون نہیں کیا۔


































