Thu Oct 15, 2026

ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ

روزانہ کی خبریں

اسرائیلی فوج کی غزہ پر بمباری، اقوام متحدہ کا اسکول بھی نہ چھوڑا، 78 فلسطینی شہید

غزہ: اسرائیلی فوج نے غزہ پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے اسکول کو بھی نشانہ بنا ڈالا، 24 گھنٹوں میں اسرائیلی دہشت گردی سے 78 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق امداد لینے کے منتظر 9 فلسطینی بھی اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے جن میں تین بچے شامل ہیں جب کہ خوراک تقسیم کرنے والے دو امریکی امدادی کارکن بھی زخمی ہوئے، اسرائیلی فوج نے الزام لگایا ہے کہ امریکی امدادی کارکن حماس کی کارروائی میں زخمی ہوئے ہیں۔
خوراک کی تلاش میں نکلے فلسطینیوں پر ہونے والے اسرائیلی حملوں میں اب تک 743 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک غزہ میں ایک ہزار 580 سے زائد طبی کارکن شہید ہو چکے ہیں، جن میں 90 ڈاکٹرز اور 132 نرسیں شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایک اسکول اور غزہ سٹی میں ایک رہائشی عمارت کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد شہید ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ اُس وقت کیا گیا جب بے گھر افراد اقوام متحدہ کے الشافی اسکول میں پناہ لیے ہوئے تھے اور سو رہے تھے، حملے سے زندہ بچ جانے والی خاتون زہوا سلمی نے قطری نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ایک زور دار دھماکہ ہوا، لوگ مدد کے لیے پکار رہے تھے، لیکن پھر خاموشی چھا گئی۔
الجزیرہ کے فلسطین میں نمائندے ہانی محمود کے مطابق لوگ قحط کا شکار ہیں، بچے بھوکے ہیں، مائیں کھانا ترک کر کے بچوں کو بچا رہی ہیں، یہ صورتحال ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے امریکا کی گلوبل ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم لوگوں کو امداد کے نام پر غیر محفوظ علاقوں میں اکٹھا کرتی ہے، جہاں نہ تحفظ ہے نہ شفافیت، ان کی سرگرمیاں زیادہ تر نمائشی ہیں۔
دوسری جانب عالمی ادارہ خوراک کے نائب سربراہ چارلس اسکو نے کہا ہے کہ غزہ کی صورتحال اُن کی زندگی کا سب سے بدترین انسانی بحران ہے، لوگ زندہ رہنے کے لیے کھانا حاصل کرنے کی کوشش میں مارے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوری طور پر جنگ بندی کی ضرورت ہے تاکہ امدادی کارروائیاں بحال ہو سکیں اور انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔
یاد رہے کہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق سات اکتوبر 2023 کے بعد 57 ہزار 335 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 35 ہزار فلسطینی شدید زخمی ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular