
ہیگ : بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ممکنہ امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے اقدامات کی تیاری شروع کر دی ہے۔ فوجداری عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے اسٹاف کو فوری طور پر 3 ماہ کی تنخواہ کی ادائیگیاں کرے گی جو پیشگی تنخواہ کی صورت میں ہوگی۔ تاکہ امریکی پابندیوں کا فوجداری عدالت کے اسٹاف پر اثر منتقل نہ ہو سکے۔ فوجداری عدالت کو خطرہ ہے کہ مالیاتی پابندیوں کی وجہ سے فوجداری جرائم سے متعلق ٹربیونل کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان نے عدالت کے خلاف پابندیاں لگانےکیلئے ووٹ استعمال کیا ہے۔ تاکہ عدالت کو نیتن یاہو کو جنگی جرائم کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی سزا دی جا سکے۔
واضح رہے امریکہ اس سے پہلے بھی ایک بار فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ اسرائیل بین القوامی فوجداری عدالت کا رکن ملک نہیں ہے۔ اس لیے اس کو اس طرح جنگی جرائم سے روکنا غلط ہے کہ اس کے وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جائیں۔


































