
لاہور: مفسر قرآن و حدیث، محققِ دوراں اور فقیہ اہلبیت شیخ محمد حسین نجفیؒ کی یاد میں تعزیتی اجلاس قومی مرکز شادمان لاہور میں منعقد ہوا۔ شیعہ علماء کونسل کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی اور دیگر رہنماؤں نے مرحوم کی علمی، تدریسی اور تحقیقی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ علماء انبیاء کے وارث اور مدارس دینیہ اسلام کے قلعے ہیں۔ علماء نے ہمیشہ معاشرہ سازی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ علم کی معرفت رکھنے والی قومیں ہی ہمیشہ ترقی کرتی ہیں۔ شرک و کفر کی چادر کو اتار کر تطہیر عقائد میں آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ آیت اللہ محمد حسین نجفی بڑی علمی شخصیت تھے، ان کی خدمت میں وہ خود حاضری دیتے رہے تھے۔ جن دنوں وہ اسلام آباد میں زیر علاج تھے، ان سے ملتے رہے تھے۔ مرحوم کے علمی سرمائے کو محفوظ رکھنا اور توحید و سنت اور سیرت اہلبیتؑ کے فروغ کے مشن کو جاری رکھنا ہوگا۔ علامہ سبطین سبزواری نے کہا آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی کی عقیدہ و جہاد پر مبنی 70 سالہ تبلیغی زندگی تاریخ کا سنہری باب ہے۔ انہوں نے عقیدہ توحید پر اتنا مدلل کام کیا کہ اہلحدیث عالم دین مولانا اسحاق مدنی مرحوم کہتے تھے کہ آیت اللہ محمد حسین نجفی اور مولانا گلاب علی شاہ کی کتابیں پڑھنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جتنی خالص توحید شیعہ کے پاس ہے، اور کسی کے پاس نہیں۔
پروفیسر عابد حسین عابد نے کہا آیت اللہ محمد حسین نجفی کی احسن الفوائد کا انگلش ترجمہ ہوچکا ہے،جبکہ اس کا عربی ترجمہ بھی تکمیل کےقریب ہے۔ سابق وفاقی وزیر تعلیم منیر حسین گیلانی نے کہا کہ متنازعہ فوجداری بالکل شرمناک طریقے سے منظور کروایا گیا اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اسکی حمایت کی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا کردار متنازعہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ تسلیم کرنے اور یہاں کے عوام کو حقوق دینے کا مطالبہ بھی کیا۔


































