
اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈز نے نئے پروگرام کیلئے حکومت سے مزید اقدامات کا مطالبہ کردیا۔ آئی ایم ایف مشن نے پاکستان کی معاشی ٹیم سے مذاکرات کے پہلے دن بجلی و گیس چوری ختم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا، حکومتی ڈسکوز کی انتظامیہ نجی شعبے کو منتقلی کا بھی ٹائم فریم مانگ لیا، جبکہ عالمی مالیاتی ادارے نے زیادہ نقصانات والے علاقوں میں بجلی بل وصولی آؤٹ سورس کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ حکومت نے بجلی اور گیس کے گردشی قرضے منجمد رکھنے کی یقین دہانی کروادی۔ آئی ایم ایف نے کیپٹو پاور پلانٹس کو مقامی گیس فراہمی بند کرنے کا مطالبہ کیا، حکومتی شعبے میں 4 بڑے پلانٹس کو مکمل استعداد پر چلانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ آئی ایم ایف نے ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن تیزی سے مکمل کرنے کا مطالبہ کیا، ٹیکس وصولی بڑھانے کیلئے عملے کی بجائے ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، آئی ایم ایف کو رواں مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی گئی۔ آئی ایم ایف کو زراعت، دکانوں اور رئیل اسٹیٹ سے پورا ٹیکس وصولی کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی گئی، ایف بی آر نے رواں مالی سال ٹیکس ہدف کے حصول کے لیے رئیل اسٹیٹ اور ریٹیلرز سے ٹیکس وصولی کی یقین دہانی کروادی۔


































