
اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتیں فارم 47 کی چھتری تلے آکر سرکاری نظام کا حصہ بن گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایک طرف یہ سرکاری نظام والی جماعتیں ہیں اور دوسری جانب عوامی قوت اور قیدی نمبر 804 ہے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کو اُس کے گھر میں شکست ہوئی۔ اس ہار کے بعد ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہوا کا رُخ کس طرف ہے۔ مشاہد حسین کے مطابق ’ہماری پارٹی کو پنجاب میں اتنا بڑا دھچکا لگا ہے۔ 30 سال کی جو سیاست تھی، وہ تو 8 فروری کو ملیامیٹ ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پہلے نواز شریف کو رائے دی تھی کہ وہ وزیراعظم بننے کا نہ سوچیں تو اس پر کئی لوگ اُن سے ناراض ہوگئے۔ میں نے پہلے بھی رائے دی تھی جب سب کہہ رہے تھے کہ چوتھی بار وزیراعظم بنیں گے میں نے اس وقت بھی مشورہ دیا تھا کہ اس کا امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فارم 45 اور فارم 47 کی باتیں مذاق بن کر رہ گئی ہیں۔ یہ جو فیصلہ ہوا تھا الیکشن سے پہلے، غلط فیصلہ تھا کہ اب کسی کو (انتخابی نشان) بلا نہیں دینا، اب کیا فائدہ ہوا؟ مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ پاکستانی سیاست دان دوسرے ملکوں سے تو مذاکرات پر آمادہ رہتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے۔


































