
تہران: اسرائیلی جارحیت میں شہید ایرانی فوجی کمانڈروں اور جوہری سائنسدانوں سمیت ساٹھ شہدا کی تشیع جنازہ میں لاکھوں افراد امڈ آئے۔ تہران کی سڑکیں سوگواروں سے بھر گئیں۔ قومی وحدت اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔
امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے گونجتے رہے۔ صدر ۔ وزیر خارجہ ۔ حکومتی و عسکری شخصیات اور علمی و سیاسی رہنماؤں نے بھی شرکت کرکے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔
فوجی کمانڈروں۔ جوہری سائنسدانوں سمیت ساٹھ شہدا کی تشیع جنازہ کا آغاز انقلاب اسکوائر سے ہوا۔ جنازوں کو شہدا کی تصاویر سے مزین گاڑیوں میں جلوس کی شکل میں آزادی اسکوائر تک لایا گیا۔ شرکا نے شہدا کی تصاویر اور بینرز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے۔
صدر مسعود پزشکیان۔ سپاہ قدس کے سربراہ جنرل اسماعیل قاآنی ۔وزیر خارجہ عباس عراقچی۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی سمیت حکومتی و عسکری شخصیات اور علمی و سیاسی رہنماؤں نے تشیع جنازہ میں بھرپور حصہ لیا۔
کاروان شہدا کے شرکا صیہونی حکومت اور امریکا کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے۔ شہدا کی تدفین تہران کے مشہور قبرستان بہشت زہرا اور مختلف امام زادگان کے حرم میں کی گئی۔ دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے شہدا کو ان کے آبائی علاقوں میں سپرد لحد کردیا گیا۔


































