
تہران : ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہاہے کہ مزاحمت کا تعلق کسی فرد یا گروہ سے نہیں بلکہ فلسطینی عوام کی جانوں اور خون سے ہے۔ صدر ابراہیم رئیسی نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ صیہونیوں کی زمینی آپریشن میں حالیہ ناکامی بہت بڑی ہے۔ مزاحمت کا تعلق کسی فرد یا گروہ سے نہیں، فلسطینی عوام کی زندگی اور خون سے ہے ایسے جذبے کو فنا نہیں کیا جا سکتا۔ صدر ایران نے غزہ جنگ کے بارے میں امریکیوں کے پیغامات پر ایران کے ردعمل کے بارے میں کہا کہ امریکیوں کے پیغامات کا جواب مزاحمتی گروہوں کی طرف سے کھلے عام دیا گیا لیکن یہ عجیب بات ہے کہ وہ جواب امریکی دوسروں کو نہیں بتاتے۔
اپنے انٹرویو کے دوران، ایران کے صدر نے کہا، "آپریشن طوفان الاقصیٰ کے بعد، صیہونی حکومت کوئی حقیقی فتح حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے، اور یہ اسرائیل کی ایک اسٹریٹجک ناکامی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "گزشتہ رات صیہونی حکومت کو غزہ پر اپنے زمینی حملے میں جو شکست کا سامنا کرنا پڑا، وہ آپریشن الاقصیٰ طوفان کے آغاز کے بعد فلسطینیوں کی دوسری فتح ہے۔” ایران کے صدر نے کہا کہ صیہونی حکومت کے جرائم سرخ لکیروں کو عبور کر چکے ہیں، جو ہر کسی کو کارروائی کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔


































