
بیروت : حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ بے شمار چیلنجوں کا سامنا کرنے اور اہم جنگ کے لیے تیار ہونے کے باوجود خطے میں مزاحمتی محاذ پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اگرچہ دشمن نوجوانوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اصل جنگ فلسطین کی آزادی کی جنگ ہے۔ ہم اس جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور ہم وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطین میں صیہونی حکومت کو ایک بڑی جنگ کا سامنا ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے اس جعلی حکومت کا خاتمہ اتنا قریب ہے کہ کسی بھی مرحلے پر ہو سکتا ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ چند سالوں پہلے جب امریکہ خطے میں داخل ہوا اور افغانستان پر قبضہ کیا تو مغربی میڈیا نے خطے کی قوموں پر ناامیدی مسلط کرنے کی کوشش کی لیکن چند سالوں کے بعد امریکہ ناکام ہو گیا اور جدید مشرق وسطیٰ کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ مقاومت امید کی کرن ہے جس نے اسرائیلی دشمن کے خلاف تیزی سے فتح حاصل کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دشمنوں کی طرف سے جاری تشہیرات اور امید کے جذبے کو مٹانے کی کوششوں کا مقصد اسرائیلی دشمن کے ناجائز قبضے کو معمول پر لانا ہے۔


































