
تحریر: حنیف غفاری
یوکرین کے خلاف روس کی فوجی کاروائی جاری ہے۔ روس نے اس فوجی کاروائی کا مقصد یوکرین کی فوجی طاقت کا خاتمہ بیان کیا تھا۔ روس کا موقف ہے کہ یوکرین مسلسل یورپی ممالک اور نیٹو فوجی اتحاد کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دے رہا ہے جس کے نتیجے میں نیٹو روس کی سرحدوں کے قریب پہنچ گئی ہے اور یہ روس کی قومی سلامتی کیلئے بہت بڑا خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ہم ماضی میں بارہا مغربی ممالک کو خبردار کرتے رہے ہیں کہ نیٹو کو ہماری سرحدوں کی جانب مت پھیلائیں لیکن انہوں نے نہ صرف اس پر کوئی توجہ نہیں دی بلکہ روس کے ساتھ انجام پانے والے معاہدوں کی بھی خلاف ورزی انجام دی ہے۔
ایک طرف یوکرین فوج خود کو ملک کے مشرق میں واقع شہر ماریوپول میں روسی حملے کا دفاع کرنے کی تیاری کر رہی ہے تو دوسری جانب آسٹریا کے صدر کارل نہامر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے ذریعے عارضی یا مستقل جنگ بندی کے قیام کی کوشش میں مصروف ہیں۔ لیکن بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ دونوں سربراہوں کے درمیان دوستانہ ملاقات انجام نہیں پا سکی۔ اس ناکامی کی بڑی وجہ مغرب کی دوغلی پالیسیاں اور متضاد رویے ہیں۔ اسی طرح یورپی ممالک کی جانب سے یوکرین سے متعلق پالیسیاں بھی اس ناکامی میں موثر ہیں۔ آسٹریا کے صدر کی روسی صدر سے ملاقات میں ناکامی کی اہم ترین وجہ دیگر یورپی ممالک کی جانب سے ٹھیک اسی وقت روس کے خلاف پابندیاں عائد کئے جانا ہے جب وہ ملاقات کرنے میں مصروف تھے۔
طے یہ تھا کہ جب آسٹریا کے صدر روس کا دورہ کریں گے اور روسی صدر سے ملاقات انجام دیں گے تو اس کے ساتھ ساتھ دیگر یورپی ممالک روس کے خلاف پابندیاں عائد کئے جانے کا جائزہ لیں گے۔ یہ لائحہ عمل بذات خود آسٹریا کے صدر کے دورہ روس کو ناکام بنانے میں بہت موثر ثابت ہوا۔ یاد رہے آسٹریا کے صدر کارل نہامر نے اس سے پہلے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے کیف میں ملاقات کی تھی جبکہ وہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان سے بھی مل کر بات چیت کر چکے تھے۔ لہذا یوکرین اور روس میں جنگ بند کروانے کیلئے یہ ان کی ذاتی کاوش تھی۔ آسٹریا کے صدر کے دورہ روس کو یورپی کمیشن کے رہنماوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔ لیکن یورپی حکمرانوں کے متضاد رویوں کے باعث وہ محدود پیمانے پر مفاہمت بھی حاصل نہیں کر پائے۔
دوسری طرف ماسکو اور یوکرین کے درمیان بھی جنگ بندی کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ ان مذاکرات میں کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہو سکی۔ البتہ یوکرینی حکمران اس بات پر راضی ہو چکے ہیں کہ وہ نیٹو فوجی اتحاد میں شمولیت اختیار نہیں کریں گے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنی حالیہ تقریر میں اس اہم اور تاریخی نکتے کی جانب اشارہ کیا ہے کہ: "ہم گذشتہ کئی سال سے سن رہے تھے کہ تمام دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ہم نے یہ بھی سن رکھا تھا کہ نیٹو کا رکن نہیں بن سکتے۔ یہ درست ہے اور ہمیں اس کا اعتراف کرنا چاہئے۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہماری عوام اس بات کو سمجھنا شروع ہو گئے ہیں اور وہ اس حقیقت تک پہنچ گئے ہیں کہ ہمیں صرف اپنی طاقت سے امیدیں وابستہ کرنی چاہئیں۔”
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا یہ موقف ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب 2004ء سے اب تک نیٹو سربراہان بارہا کیف کے مغرب نواز حلقوں کو یہ وعدہ دے چکے تھے کہ انہیں نیٹو فوجی اتحاد میں شامل کر لیا جائے گا۔ لیکن اب تک یوکرین نہ تو یورپی یونین کا رکن بن پایا ہے اور نہ ہی نیٹو فوجی اتحاد کا۔ حتی اگر اسی وقت روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ بند ہو جائے اور دونوں ممالک کے درمیان مستقل جنگ بندی کے بارے میں ایک پائیدار معاہدہ بھی تشکیل پا جائے، تب بھی یوکرین کو آئندہ طویل عرصے تک جنگ کے سنگین اقتصادی اور سیاسی نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ اہم سوال یہ ہے کہ مغربی ممالک کے ہاتھوں سالہا سال دھوکہ کھانے کے بعد یوکرینی حکمران کس نتیجے پر پہنچے ہیں؟ نیٹو کی رکنیت یا یورپی یونین کی رکنیت؟ جواب یہ ہے کہ کچھ بھی نہیں۔
روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق آسٹریا کے صدر اور روسی صدر کے درمیان ملاقات ماسکو کے قریب ناواواگاریو میں واقع ولادیمیر پیوٹن کی سرکاری رہائشگاہ میں انجام پائی ہے۔ آسٹریا کی درخواست پر یہ ملاقات بند کمرے میں ہوئی ہے۔ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ انرجی اور گیس سے متعلق امور کے علاوہ یوکرین جنگ سے متعلق کون کون سے امور پر بات چیت ہوئی ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ چونکہ یہ ملاقات بند کمرے میں انجام پائی ہے لہذا ممکن ہے یورپی یونین کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بعض خفیہ پیغامات بھی بھیجے گئے ہوں۔ یاد رہے آسٹریا یورپی یونین کا رکن ہونے کے باوجود نیٹو فوجی اتحاد کا رکن نہیں ہے۔


































