Sun Oct 25, 2026

امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایران کی حمایت اخلاقی فریضہ ہے، اسلامک ریزسٹنس اِن عراق ولی امر مسلمین کی بدعنوانی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اور جنگی نقصانات کے معاوضے کے حصول کی ہدایت اسرائیل کیلئے امریکی امداد کے خاتمے کا وقت آنے والا ہے، نیتن یاہو 30 جون تک تمام ہتھیار ریاستی کنٹرول میں لانے کا ہدف ہے، عراقی وزیراعظم امریکی بحری جہازوں کو دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل نہیں ہونے دیں گے: ایرانی فوج پاکستان، برطانیہ، فرانس سمیت 8 ملکوں کا مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے سفارتی حل پر زور اردن، گرجا گھر میں فائرنگ سے 7 افراد ہلاک، 20 زخمی پاکستان اور سعودیہ نے مکہ معاہدے کی توثیق کے مراحل مکمل کرلیے، دفترخارجہ یمن پر سعودی اور اتحادی فورسز کے حملوں میں 9 شہری جاں بحق امریکا نے اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام پر اپنے ٹیکس دہندگان کے 11 ارب ڈالر پھونک دیے، عراقچی الخلیل میں چیک پوسٹ پر حملے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 زخمی اربوں ڈالر خرچ ہوگئے جنگ سے امریکا کو کیا ملا؟ ، امریکی سینیٹرز ایران پر حملہ ہوا تو انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کی لائنیں تباہ کردیں گے، رحیم صفوی یورپ میں مظاہروں میں شدت: فرانس میں مرکزی طلبہ یونین کی ہفتہ کو احتجاجی ریلیوں کی کال غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید 4 فلسطینی شہید

روزانہ کی خبریں

23 فوجی بٹالین کی تعیناتی مغربی کنارے پر دوبارہ قبضہ کی کوشش ہے، فلسطینی انتظامیہ

رام اللہ : فلسطینی وزارت خارجہ نے مغربی کنارے میں 23 فوجی بٹالین کی تعیناتی کی مذمت کرتے ہوئے اسے دوبارہ قبضے کی اسرائیلی کوشش قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل نے مغربی کنارے کے طول وعرض میں 750 سے زیادہ فوجی چوکیاں قائم کی ہیں۔ یروشلم شہر میں ہزاروں اسرائیلی پولیس اہلکار اس کے علاوہ ہیں۔ وزارت خارجہ نے فوج کی تعیناتی کو ایک نئی کشیدگی کا موجب بننے کے علاوہ فلسطینیوں پر مزید اجتماعی سزائیں مسلط کرنے کے مترادف قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں فوجی نفری کی تعیناتی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسرائیل تنازعات بات چیت اور سیاسی حل کے بجائے فوجی طاقت سے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے اور وہ فلسطینیوں کے دیرینہ حقوق اور مطالبات کو طاقت کے ذریعے دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular