
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ تاریخی طوفان الاقصٰی آپریشن بظاہر اسرائیل کے خلاف شروع ہوا لیکن یہ خطے میں امریکی منصوبوں کو تہہ و بالا کرنے میں کامیاب رہا اور یہ خطے سے امریکہ کا صفایا کرکے رکھ دے گا۔
قومی رضاکاروں بسیج کے اجتماع سے خطاب میں ولی امر مسلمین نےکہا کہ غاصب صیہونی حکومت نے غزہ کے عوام کے خلاف جو وحشیانہ کارروائیاں انجام دی ہیں۔ اس نے مغربی تہذیب و تمدن کے چہرے سے نقاب اتار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طوفان الاقصٰی آپریشن کو روکا نہیں جا سکتا اور جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ خدا کی مدد و نصرت سے باقی نہیں رہے گی- انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا کے حالات بدل رہے ہیں لیکن امریکا کے حق میں نہیں بلکہ استقامتی تحریک کے حق میں اور استقامتی محاذ حالات کو اپنے حق میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ امام خمینی رح نے جس مقاومت کی خوش خبری دی تھی آج وہی مقاومت خطے کی تقدیر بدل رہی ہے۔ طوفان الاقصٰی اس کا ایک نمونہ ہے۔ خطے کو مشرق وسطیٰ کا نام دیا گیا اور نئے مشرق وسطیٰ کی تشکیل کی خبریں دی گئیں۔ خطے میں امریکی مفادات کو تحفظ اور تکمیل تک پہنچانا چاہتے تھے لیکن دشمن کے منصوبے خاک میں مل گئے۔ یہ حزب اللہ جیسی تنظیموں کو نابود کرنا چاہتے تھے لیکن حزب اللہ پہلے سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ عراق کو نگلنا چاہتا تھا۔ شام پر قبضے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ داعش اور النصرہ فرنٹ جیسی دہشت گرد تنظیمیں وجود میں لائی گئیں۔ دس سال تک سرمایہ کاری کے باوجود کوئی فائدہ نہیں ملا اور آخر میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ انہوں نے خطے کے حالات کے بارے میں کہا کہ گذشتہ 50 دنوں کے دوران پیش آنے والے واقعات صیہونی حکومت کے 75 سالہ مظالم کا خلاصہ ہیں۔ طوفان الاقصٰی نہیں رکے گا بلکہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ امریکہ نئے مشرق وسطیٰ کے نقشے میں فلسطین پر پوری طرح اسرائیل کو مسلط کرنا چاہتا تھا۔ جس خائن حکومت کو اپنے ہاتھوں سے تشکیل دیا تھا اس کو نظرانداز کرنا شروع کیا۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی ناکام ہوگئی ہے۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ ایران فلسطین میں ریفرنڈم کا قائل ہے۔ ایران یہودیوں کو سمندر برد کرنے کا حامی نہیں ہے۔


































