
دہلی : ہندوستانی سپریم کورٹ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف درخواستوں پر دو اگست سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی۔ ہندوستانی چیف جسٹس یشونت چندراچوڑ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے آئینی جواز اٹھانے والی درخواستوں پر سماعت کی۔ کچھ درخواست گزاروں نے معاملے کو سات رکنی بنچ کے سامنے سماعت کے لیے بھیجنے کی درخواست کی جسے مسترد کر دیا گیا۔کیس کی سماعت 2 اگست کو 10 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوگی اور جمعہ اور پیر کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر جاری رہے گی۔ مودی سرکار نے اپنے حلف نامے میں دعویٰ کیا ہے کہ آرٹیکل 370 ختم کرنے سے علاقے میں غیر معمولی ترقی، سیکیورٹی اور استحکام آیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومتی حلف نامے سے درخواستوں میں اٹھائے گئے آئینی مسائل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اس مقصد کے لیے اس پر انحصار نہیں کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے دستاویزات کی تیاری کے لیے دو وکلا کو نوڈل کونسل کے طور پر مقرر کیا۔ عدالت نے تمام فریقین کو 27 جولائی تک تحریری گذارشات جمع کرانے کی ہدایت کی۔
یاد رہے کہ 5 اگست 2019 کو مودی حکومت نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دلانے والے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا۔


































