
اسلام آباد : 27 ویں آئنی ترمیم کا بل صدر کے دستخط کے بعد آئین کا حصہ بن گیا ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد آئینی ترمیمی بل وزارت پارلیمانی امور کو بھجوایا تھا۔ جس نے بل صدر کو بھیج دیا۔ اس سے پہلے سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی نئی شقوں کو دو تہائی اکثریت سے منظورکیا تھا، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم کے نئے متن کو سینیٹ میں پیش کیا جس کے بعد ترامیم کو شق وار منظور کیا گیا۔
قومی اسمبلی سے منطور کردہ 27چویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کیا گیا، قومی اسمبلی سے منظور کردہ بل 56 شقوں پر مبنی تھا، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل پیش کیا جب کہ اپوزیشن نے اس دوران شدید احتجاج کیا۔ قومی اسمبلی سے منظور اضافی ترامیم کی شق وار منظوری کا عمل مکمل ہوگیا، سینیٹ نے قومی اسمبلی سے منظور 8 اضافی ترامیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیں جب کہ اپوزیشن اراکین نے نعرے بازی کی کہ آئین کی تباہی نہ منظور ہارس ٹریڈنگ نہ منظور اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔
پی ٹی آئی نے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کیا جب کہ جے یو آئی ف نے مخالفت میں ووٹ دیا، پی ٹی آئی اراکین نے حتمی منظوری سے قبل واک آؤٹ کردیا، جے یو آئی ف کے اراکین ایوان میں موجود رہے۔


































