
اسلام آباد: اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی نے ملک میں ایک اور فوجی آپریشن کی مخالفت کردی۔ قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کے بعد پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کوئی بھی آپریشن ہو اس کیلئے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، کوئی بھی کمیٹی کتنی ہی بڑی ہو پارلیمان سے سپریم نہیں، آئین کے مطابق پارلیمان سپریم ہے، پہلے کی طرح اس بار بھی عسکری قیادت پارلیمنٹ میں آکر ان کیمرہ بریفنگ دے اور اعتماد میں لے، ہم نے بولنے کی اجازت نہ دینے پر احتجاجی طور پر پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کیا۔ سابق اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ کسی بھی طور پر آپریشن کی حمایت نہیں کرسکتے۔ آپریشن پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔ ڈیفنس منسٹر یونہی بیٹھا ہے، پہلے بھی بہت آپریشن ہوئے ہیں، آج تک کون سا آپریشن کامیاب ہوا؟ ہم امن چاہتے ہیں مگر ہر ظلم کے خلاف ہیں، آپ ایک طرف آپریشن کر رہے ہیں اور دوسری جانب فاٹا پاٹا پر ٹیکس لگا رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ کسی بھی قسم کے آپریشن پر پارلیمان کو اعتماد میں لینا چاہیے، چین کے اہم لوگ کل آئے تھے، انہوں نے بھی سی پیک کی سیکیورٹی پر خدشات کا اظہار کیا ہے، ملک میں رول آف لاء ہوگا، تبھی ملک میں امن آئے گا، لوگوں کو ڈنڈے مار کر ملک میں امن نہیں لایا جاسکتا۔


































