Mon Oct 26, 2026

لانا نسیبہ اقوامِ متحدہ کا سربراہ بننے کی کوشش سے گریٹر اسرائیل منصوبہ آگے بڑھا رہی ہیں، قالیباف پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملیں گے فرانس میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے، جھڑپوں کے بعد سینکڑوں مظاہرین گرفتار ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے، آبنائے ہرمز پر ایران کو ویٹو پاور حاصل ہے، اوباما کا اعتراف جنگ بندی میں تمام محاذوں پر لڑائی مکمل بند ہونی ضروری ہے، عراقچی ایران نے امریکی ڈرون مار گرایا علاقائی سالمیت کے خلاف جارحانہ اقدام کا ناقابل تصور جواب دیں گے، قالیباف ٹرمپ کی اسرائیلی عوام سے نیتن یاہو کو ووٹ دینے کی اپیل ایران سے روسی سفارت کاروں اور جوہری ماہرین کے انخلا کی خبریں مسترد نئی جنگ کے اثرات تباہ کن ہوں گے، خطے کا جغرافیہ تبدیل ہو جائے گا، جنرل محبی امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایران کی حمایت اخلاقی فریضہ ہے، اسلامک ریزسٹنس اِن عراق ولی امر مسلمین کی بدعنوانی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اور جنگی نقصانات کے معاوضے کے حصول کی ہدایت اسرائیل کیلئے امریکی امداد کے خاتمے کا وقت آنے والا ہے، نیتن یاہو 30 جون تک تمام ہتھیار ریاستی کنٹرول میں لانے کا ہدف ہے، عراقی وزیراعظم امریکی بحری جہازوں کو دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل نہیں ہونے دیں گے: ایرانی فوج

روزانہ کی خبریں

طالبان کا بڑے پیمانے پر سیکیورٹی کیمروں کا جال بچھانے کا فیصلہ

FILE PHOTO: Taliban soldiers stand guard at the second-anniversary ceremony of the takeover of Kabul by the Taliban in Kabul, Afghanistan, August 15, 2023. REUTERS/Ali Khara/File Photo

کابل: طالبان حکومت نے دہشتگرد تنظیم داعش کے کارکنان کی نشاندہی اور عوام کی بڑے پیمانے پر نگرانی کیلئے امریکی منصوبے کو اپنانے کا فیصلہ کرلیا۔ وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ حکام دارالحکومت کابل میں پہلے سے موجود ہزاروں کیمروں میں مزید اضافے کی کوشش کر رہے ہیں۔ طالبان کے ترجمان عبدالمتین قانی نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ طالبان ملک میں سیکیورٹی کی بحالی اور دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف کارروائیوں پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔ طالبان نے چینی ٹیک کمپنی ہواوے سے بھی ممکنہ تعاون سے متعلق مشورہ کیا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ بڑے پیمانے پر کیمروں کی تنصیب جس میں کابل اور دیگر جگہوں کے اہم مقامات پر توجہ دی جائے گی، ایک نئی سیکیورٹی حکمت عملی کا حصہ ہے جس پر مکمل عمل درآمد میں چار سال لگیں گے۔

مزید پڑھیے

Most Popular