
جنیوا : اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے بالا کرشنن راج گوپال کا کہنا ہے کہ غزہ میں گھروں کی منظم تباہی جنگی کارروائی نہیں بلکہ نسل کشی کا تسلسل ہے۔ ترک نیوز ایجنسی انادولو کو انٹرویو میں راج گوپال نے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی کے بعد بھی نہ صرف فلسطینیوں کو قتل کر رہا ہے بلکہ گھروں کی تباہی بھی جاری ہے۔ جبکہ انسانی امداد کی مناسب مقدار غزہ میں داخل ہونے سے روکی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقے پر مکمل قبضے کے بعد گھروں کی بڑے پیمانے پر تباہی جنگی جرم، انسانیت کے خلاف جرم اور نسل کشی کا واضح حصہ ہے۔ راج گوپال نے شدید انسانی بحران کی طرف بھی توجہ دلائی، یہ بتاتے ہوئے کہ اس وقت دو لاکھ اٹھاسی ہزار سے زائد فلسطینی خاندان مناسب پناہ گاہ تک رسائی سے محروم ہیں۔ موجودہ پناہ گاہیں بالکل ناکافی ہیں اور کئی خاندان ایک سے دو فٹ پانی میں کھڑے سرد موسم کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے بچوں، خواتین اور بزرگوں میں پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔


































